Skip to content

marwari karachi

June 7, 2016

DAWN.COM CITYFM89 HERALD AURORA EVENTS CAREERS DAWN IMAGES

پہلا صفحہ تازہ ترین پاکستان دنیا کھیل انٹرٹینمنٹ صحت سائنس و ٹیکنالوجی کالم / بلاگ ویڈیوز
Whatsapp
69 تبصرے
ای میل
پرنٹ کریں
وہ علاقہ جہاں رات کو خواتین کی حکمرانی ہوتی ہے
یمنیٰ رفیع

فوٹو وائٹ اسٹار
فوٹو وائٹ اسٹار
گزدرآباد کی تنگ گلیاں نہ صرف دن کے اوقات میں پرہجوم رہتی ہیں بلکہ لوگوں کی آمدورفت رات میں بھی جاری رہتی ہے۔ یہاں آپ آگے بڑھیں تو گلیاں اور راستے مزید تنگ ہوجاتے ہیں اور گھر آپس میں اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ بمشکل ہی تاریکی میں ڈوبے آسمان کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔

نصف شب کے بعد چہل پہل تھم جاتی ہے اور سناٹے کا راج ہوجاتا ہے، پھر ایک کے بعد ایک دروازہ آہستگی سے کھلتا ہے اور خواتین اپنے بہترین ملبوسات اور سونے کے زیورات زیب تن کیے باہر آکر اپنے گھروں کے باہر رکھے تختوں پر بیٹھنا شروع ہوجاتی ہیں۔

بالکل اپنی سلطنتوں کی ملکاﺅں کی طرح رات گئے چائے کے ساتھ چغلیاں، لطائف سنانے اور ہنسنے ہنسانے میں مصروف یہ خواتین رات کے اس پہر گلیوں پر حکمرانی کرتی ہیں۔ بغیر کسی ڈر یا ملامت کے، کوئی مرد یا بچہ ان کے امن کو متاثر نہیں کرتا اور وہ اپنا فرصت کا وقت بھرپور مزے کے ساتھ گزارتی ہیں۔

ایک ایسے معاشرے میں جہاں رات کی تاریکی چھانے کے بعد اکیلے باہر گھومنے پر خواتین کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے یہ منظرنامہ کسی اور ملک کا لگتا ہے مگر اس علاقے کے رہائشیوں کے لیے یہ برسوں پرانی ایک عام چیز ہے۔

گزدر آباد کو عام طور پر ‘ رنچھوڑ لائن’ کے طور پر زیادہ جانا جاتا ہے، یہ کراچی شہر کے غریب علاقوں میں سے ایک ہے جہاں ہر جگہ تجاوزات کی بھرمار ہے مگر ان گلیوں کے وسط میں ایک برادری موجود ہے جس کی اپنی بولی، رسوم و روایات ہیں۔

اس علاقے میں موجود یہ برادری مارواڑی سلاوٹ ہے جو برصغیر کی تقسیم سے قبل راجھستان کے شہر جیسلمیر سے کراچی اور حیدرآباد منتقل ہوئی تھی۔

مارواڑی برادری آپس میں جڑ کر رہنے والی ہے جن کی گزدرآباد میں آبادی بیس ہزار کے لگ بھگ ہے اور وہ اپنے آباؤ اجداد کی جانب سے بسائے گئے علاقے سے منتقل ہونے کے لیے تیار نہیں۔

ستر سالہ گل زرینہ بتاتی ہیں ” ہماری زندگی یہاں گزری ہے اور ہم یہیں مریں گے، یہاں تک کہ جو چند خاندان یہاں سے شہر کے بہتر علاقوں میں منتقل ہوئے ہیں وہ بھی اپنی شادیوں کے لیے یہاں کی سڑکوں پر واپس آتے ہیں”۔

یہاں کی مرکزی شاہراہ متعدد گلیوں سے منسلک ہے جن کے پرانے نام ابھی تک برقرار ہیں جیسے پیرو بدھا اسٹریٹ، کلیان جی اسٹریٹ، کسی کو بھی معلوم نہیں کہ کس زمانے میں ان کا قیام عمل میں آیا۔

ہر گلی کے آغاز پر لکڑی کی بینچیں ہر کونے میں رکھی ہیں جہاں ہمیشہ ہی لوگ موجود ہوتے ہیں اور بھیل پوری سے لطف اندوز ہوتے ہیں جو کہ اس علاقے کی خاصیت ہے۔

گلیوں میں موجود لکڑی کی بینچیں — فوٹو محمد عمر
گلیوں میں موجود لکڑی کی بینچیں — فوٹو محمد عمر
گل زرینہ نے گلی کے اختتام پر موجود ایک چھوٹی سی دکان کی نشاندہی کی جس کے اندر خواتین بیٹھی ہوئی خرید و فروخت میں مصروف تھیں۔

انہوں نے کہا ” ہم سب نے اس خاتون کو دکان چلانے میں مدد کی، اس کا شوہر بیرون ملک چلا گیا تھا تو ہم اس کی دکان پر بیٹھنے لگے تاکہ وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو بھی پورا کرسکے”۔

گل زرینہ نے فخر کے ساتھ کہا ” یہاں یہ غیرمعمولی نہیں سمجھا جاتا کہ ایک خاتون اپنی دکان خود چلائے اور کوئی بھی اسے ہراساں نہیں کرتا یا اسے نکل جانے کا نہیں کہتا”۔

خواتین کے ایک گروپ کا رات گئے بیٹھنے کا سن کر سب سے پہلے ان کی سیکیورٹی کے سوالات اٹھنے لگتے ہیں مگر اس پہلو کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ یہاں سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور باہر سے آنے والوں کو باآسانی شناخت کیا جاسکتا ہے۔

اس آبادی کا ترکہ نئے آنے والوں تک بھی پھیل چکا ہے اور مارواڑی برادری برے عناصر سے اپنے طریقے سے نمٹنا جانتی ہے۔

ان گلیوں میں آنے والے کسی بھی تخریب کار سے فوری طور پر اس کے آنے کا مقصد پوچھا جاتا ہے اور اطمینان بخش جواب نہ ملنے کی صورت میں خواتین کی جانب سے اجتماعی اقدام کیا جاتا ہے۔

رات کے وقت جمع خواتین — فوٹو یمنیٰ رفیع
رات کے وقت جمع خواتین — فوٹو یمنیٰ رفیع
پچاس سالہ فہمیدہ سلطانہ ایک رات پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بتارہی ہیں جس میں خواتین نے چپلوں کے ساتھ ایک شخص کا تعاقب کیا تھا” ایک بار ایک شخص بار بار ان گلیوں سے گزر رہا تھا اور خواتین کو گھور رہا تھا، یہ سلسلہ کچھ منٹ تک چلتا رہا جس کے بعد ہم سب شکوک کا شکار ہوگئیں اور ہم نے یہاں سے چلے جانے کی ہدایت کی۔ اس نے خراب رویے کا اظہار شروع کردیا اور ہم اس طرح کا رویہ کسی صورت برداشت نہیں کرتیں”۔

فہمیدہ نے یہ اپنے گھر کے باہر بنی سب سنگ مرمر کی نشست پر آرام کرتے ہوئے بتایا۔ وہ اس وقت چائے سے لطف اندوز ہورہی تھیں جب کہ دیگر خواتین ان کے پاس آکر مصافحہ کرتیں اور علیک سلیک کرتیں۔

دیگر خواتین نے جمع ہوکر پرجوش انداز میں ماضی کے ان واقعات کا احوال سنایا جب انہوں نے خود کو ملزمان یہاں تک کہ سیاسی جماعت کے ورکرز سے بچایا تھا جو اس علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

فہمیدہ نے ایک جھگڑے کا احوال سنایا جو سیاسی ورکرز اور علاقے کے رہائشیوں کے درمیان دو سال قبل عیدالاضحیٰ کے موقع پر کھالوں کے ‘ عطیات’ اکھٹا کرنے کے موقع پر ہوا تھا۔

مارواڑی برادری نے ان کے مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور جب ورکرز مشتعل ہوگئے تو بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں سے نکل کر ان کے سامنے آگئے۔ ان چند ورکرز کا سامنا پوری برادری سے ہوا جو پرعزم، خطرات یا طاقت سے نمٹنے کے لیے تیار تھے۔

فہمیدہ بتاتی ہیں ” جب ہمارے مرد بڑی تعداد میں جمع ہوگئے تو پارٹی اراکین پر دباﺅ بڑھ گیا، ہم اپنے گھروں میں تھیں اور نیچے جھگڑے کو دیکھ سکتی تھیں، ہم سب (خواتین) نے اکھٹے ہوکر بوتلیں اور جو کچھ ملا سیاسی ورکرز پر برسانا شروع کردیا، انہیں ہمیں دھمکانے کا کوئی حق نہیں تھا”۔

رنچھوڑ لائن کی ایک مصروف شاہراہ— وائٹ اسٹار فوٹو
رنچھوڑ لائن کی ایک مصروف شاہراہ— وائٹ اسٹار فوٹو
مارواڑی نہ صرف اپنی برادری کے کبھی نہ ٹوٹنے والے تعلق اور خواتین کی ترقی پر فخر کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے بزرگوں کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے بھی مسرت محسوس کرتے ہیں جس کے لیے وہ جانے جاتے تھے جو ہے سنگی تعمیرات۔

کراچی میں بیشتر تعمیرات کے شاہکار کا کریڈٹ انہیں دیا جاسکتا ہے۔ گزدرآباد کے علاقے میں کراچی میں پائی جانے والی قدیم ترین مساجد میں سے ایک موجود ہے، مجموعی طور پر اس علاقے میں پانچ مساجد ہیں جن کا سنگی کام یہاں کے رہائشیوں کے بزرگوں نے کیا تھا۔

رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ جامع مسجد بیچ والی کی تعمیر کو ڈھائی سو سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے جبکہ جامع مسجد بادامی 1875 سے موجود ہے۔ بنگی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک صدی پرانی ہے، جبکہ سب سے ‘کم عمر’ جامع مسجد پاکستان ہے جو 1940 میں قرارداد پاکستان کی یاد میں تعمیر کی گئی۔

فوٹو محمد عمر
فوٹو محمد عمر
مارواڑی برادری کو اپنے حسب نسب کی تاریخ بہت اچھی طرح یاد ہے کہ یہاں تک کہ بچوں کی زبانوں کی نوک پر بھی پوری تاریخ رواں رہتی ہے۔

شاہینہ گزدر نامی خاتون بتاتی ہیں ” اس علاقے کا نام ہاشم گزدر کے نام پر رکھا گیا جو 1941 اور 1942 میں کراچی کے میئر تھے، تقسیم سے پہلے وہ سندھ کے وزیر رہے اور بعد میں پاکستان کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن بن گئے”۔

وہ بتاتی ہیں کہ گزدر نام درحقیقت ایک خطاب تھا جو ہاشم گزدر کے والد کو راجھستان کے راجا نے شاہی محل میں ایک خوبصورت عمارت تعمیر کرنے پر دیا۔

یہاں کے لوگوں سے بات کرنے کے دوران بیشتر اپنی جماعت کا حوالہ اکثر دیتے ہیں جو برادری کے لیے متحرک انداز میں سرگرم ہے، اس جماعت کے ایک رکن سلمان گزدر بتاتے ہیں ” تمام امور پر غور اور فیصلہ مشاورت کمیٹی کرتی ہے، اب چاہے وہ گھریلو تشدد کا معاملہ ہو طلاق یا چوری کا”۔

وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ ایک تیرہ رکنی ٹیم کا انتخاب مختلف امور جیسے کھیل، صحت، تعلیم اور مقامی مساجد وغیرہ کے لیے ہوتا ہے۔ جماعت کا اپنا آئین ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ برادری کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھے۔

سلمان کے مطابق ” ہمارے اپنے شناختی کارڈز بھی ہیں جو قومی شناختی کارڈز سے ملتے جلتے ہیں”۔

انہوں نے اپنا کارڈ بھی دکھایا جس میں ان کی قومیت مارواڑی سلاوٹ تحریر تھی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس علاقے میں جرائم کی شرح بہت کم ہے اور یہاں کی گلیوں میں مقامی رہائشی لوٹ مار کے ڈر سے آزاد ہوکر آزادی سے گھومتے ہیں۔

فوٹو یمنیٰ رفیع
فوٹو یمنیٰ رفیع
فہمیدہ بتاتی ہیں ” میرا گھر گراﺅنڈ فلور پر ہے اور میں دوپہر کو اپنا دروازہ کھول کر بھی سو سکتی ہوں، بچے باہر کرکٹ کھیلتے ہیں اور وہ پانی پینے کے لیے اس وقت آتے ہیں جب میں سو رہی ہوتی ہوں، یہ پوری آبادی ایک دوسرے پر اعتماد کرتی ہے”۔

انہوں نے مزید کہا ” ہم ضرورت کے وقت اکھٹے کھڑے ہوتے ہیں، اگر کسی کو خون کی فوری ضرورت ہو تو اس کا اعلان مسجد میں کیا جاتا ہے اور لوگوں کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آتا ہے۔ میں فخر سے دعویٰ کرسکتی ہوں کہ ہمارا کوئی پڑوسی رات کو بھوکا نہیں سوتا”۔

مارواڑی برادری کا شادیوں کے انعقاد کا اپنا منفرد طریقہ ہے، وہ ہال بک نہیں کراتے بلکہ اس تقریب کا انعقاد مرکزی شاہراہ پر کرتے ہیں اور وہاں برادری کے ہر ایک فرد کو آنے کی اجازت ہوتی ہے۔

پیشے کے لحاظ سے ایک استاد روبینہ الطاف بتاتی ہیں ” ہماری تمام شادیوں کا انعقاد ہفتہ کو ہوتا ہے کیونکہ ہم نے صرف اس روز کے لیے شاہراہ استعمال کرنے کی اجازت حکومت سے لے رکھی ہے”۔

علاقے کی مقبول شخصیت فہمیدہ سلطانہ — فوٹو یمنیٰ رفیع
علاقے کی مقبول شخصیت فہمیدہ سلطانہ — فوٹو یمنیٰ رفیع
اگرچہ مرد تمام تقاریب میں شریک ہوتے ہیں تاہم یہ خواتین ہیں جنھیں تمام امور پر بالادستی حاصل ہے، تحائف اور کھانا تقسیم کیا جاتا ہے مگر اصل جشن نصف شب کے بعد شروع ہوتا ہے۔

اس وقت جب پورا شہر نیند کی وادیوں میں گم ہوتا ہے اور روشنیاں مدھم ہوجاتی ہیں گزدرآباد کی مرکزی شاہراہ روشن ہوجاتی ہے، ڈھول بجانے والے اپنا کام شروع کرتے ہیں، خواتین اور بچے جگمگاتے ملبوسات اور زیورات پہنے رقص شروع کرتے ہیں اور ہر اس جوڑے کی شادی کا جشن منایا جاتا ہے جو ” قبول ہے” کہتے ہیں ۔ جب مرد گھر چلے جاتے ہیں تو خواتین اپنا جشن ختم کرکے طلوع ہوتے سورج کے ساتھ دلہن کو دلہا کے پاس لے جاتی ہیں۔
Whatsapp
69 تبصرے
ای میل
پرنٹ کریں
تبصرے (69) بند ہیں
Sort By Date Sort By Votes

babar_saeed_khan
سال پہلے
Very interesting report need its coverage on tv.

سفارش7

shoaktali
سال پہلے
ye article padh kar hame bhut achha laga aur hame ye v pata chal gya k aaj v aisa village j jahan pr aurton ki hukmarani h

سفارش5

faiyaz
سال پہلے
Main Islamabad aany se pehly ranchorline main rehta tha badami masjed main namaz parhta tha Jo b ap ny lekha hai sab such hai

سفارش6

Azhar
سال پہلے
yeh hae mera asaal pakistan… bht ittmenaan hwa yeh report perh karr

سفارش4

Khurram Kamran
سال پہلے
Very Good article. I must admire the effort it took to complete.

سفارش1

VickY
سال پہلے
Bohot He Acha Laga Parh Kar. Jis Jagah Aese Khush Haal Log Hoon Wahan Kuch Bura Nhi Hosakta…

سفارش4

Touqeer
سال پہلے
Bhot acha mjy parh kar bhot khushi hoi mjy zindagi me jab b moka mila me zaror jao ga is jaga ka visit karny

سفارش1

amir warsi
سال پہلے
Artical bohat acha likha hy positive sing hy ye ky is mashry me ESA bhi ho skta hy aur bhi acha lagta AGR badmi masjid Pakistan masjid ki tasvrin hoti markzi shara ki tasver thk ni ghlati sy burns rood ki tasveer lag gai hy

سفارش0

vinod kumar
سال پہلے
Good to know. I have lived in Hyderabad silawat para. Things were similar there also.

سفارش2

anzal fareed sati
سال پہلے
Mjhe bhot bhot fakhaar ha ke mai is jamat ka hissa hun mjhe aesaay log milaay hain fakhar ha mjhe ek silawata honay par

سفارش2

aman
سال پہلے
ye bilkul such hain

سفارش0

arifa
سال پہلے
zabardast

سفارش1

arifa
سال پہلے
zabrdast article

سفارش1

arifa
سال پہلے
very interesting

سفارش2

Uzair Narinja
سال پہلے
Main bhi is comunity ka ek hissa hu or mujhe fakhr hai kay hamary yaha sab log itni khushi sy apni life guzarty hai allah hamari comunity ko hmaesha sahi salamat rakhy

سفارش2

farrakh
سال پہلے
very impressive article yeh he asal pakistan

سفارش1

farrakh
سال پہلے
Interesting! it seems it is a real picture of pakistan

سفارش1

shahid latif
سال پہلے
اس برادری کے ہر فرد کی عظمت کوسلام ہے۔

سفارش4

GR khan Gurmani
سال پہلے
the best society in Karachi there unity is power they all male female are hard worker the peace achieved by them not bestowed.

سفارش1

Asim.ali
سال پہلے
very interesting article…. ya ha pakistan .

سفارش1

DANISH
سال پہلے
DANISH RAJPUT .> NICE

سفارش2

DANISH
سال پہلے
V NICE

سفارش0

عدنان
سال پہلے
یہ ہی ہے وہ اصل کراچی ، جو تیس سال پہلے تک ایسا تھا ۔ لیکن پھر ۔۔۔۔۔ یمنی رفیع صاحبہ ، “سیاسی ورکرز” کون تھے ، نیز ان کا تعلق کس پارٹی سے تھا اس بارے میں آپ کا قلم پوری حقیقت بیان نہیں کرتا ہے۔

سفارش4

Asif
سال پہلے
@Touqeer per sir aap visit hi tau nahi karsaktay ager aap outsider hain tau

سفارش2

Ehtesham
سال پہلے
bht kushi hue ya sub purh k aur ab tu mara b man kur raha ha k ma aik dafa ya jga zarur visit karun.

سفارش0

kabbir shah
سال پہلے
no words… its very interesting… a great effort 🙂

سفارش0

Muhammad Tariq Khan
سال پہلے
Really a salawat is very good nation and specially its ladies are very brave as I observed them in “Salawat Para” Hyderabad Sindh during my college time in late 70’s. In the other hand one of a high ranking officer (Chief Accounts Officer) in Pakistan Telecom Company Limited was also a Salawat and very popular and known to be a very social and charity worker. He was very kind and never been feel proud to be an officer and always listen and sit with their subordinates specially low ranking employees. I always pray for his departed soul.

سفارش1

Muhammad Rahim
سال پہلے
is se ye sabit hota ha k agar hum khud thek hoo to sab kuch thek ho sakta ha. Hum apne ap ko thek karain ge to Muhashra khud hi thek ho jai ga. Hakumatain kuch nai karti wo apna pait bharte hain. ye b to pakistan ka elaqa ha yahan kion aman ha is liye k log khud thek hain

سفارش0

M ZIAFAT khan
سال پہلے
ماشاءاللہ میں کراچی میں سال رہا مجھے پتہ نہ چل سکا. اب کی بار ضرور آؤں گا یہاں

سفارش0

Mahmood
سال پہلے
Amazing information

سفارش0

Samiullah Sher Ali
سال پہلے
Aik Or Interesting bat is ilaqy ki or bhi hai jo shyed yaha per high light nahi ki gain. yaha per her gali me aik deeni Madersa bhi hai jo choty bacho ko quran ki taleem or Nazara perhany kam krta hai or is me Quran pak ko Hifiz bhi krwaya jata hai yaha per kam az kam her dosry gharr me aik hafiz quran hai. or Aalim deen hai. is ilaqy me approximate 40 se ziada deni madersy hai jaha per bacho ko Quran pak ki deeni taleem di jati hai or un ki hosla affzai ke liye gift bhi dia jaty hai.

سفارش1

owais khan
سال پہلے
hafty ki raat ko yahan bhot ronak hoti hai hum yehan khas chay means tae pena aaty hai …..kalapul se…

سفارش0

Muhammad shafiq Rao
سال پہلے
Very nice story , I empress read this story.Basically my parent mygrat rajastan(india) 1947.

سفارش0

Syed Mehdi Bukhari
سال پہلے
very well written and informative , Thanks to author

Kind Regards Syed Mehdi Bukhari Writer / Photographer / Traveler

سفارش3

muhammad ali raja
سال پہلے
very informative article. such kind of reporting is needed in pakistani journalism.

سفارش1

یمین الاسلام زبیری
سال پہلے
عظیم ہئیں وہ لوگ جو ترقی تو کرتے ہیں لیکن اپنی اقدار نہیں چھوڑتے۔ ایسی آبادی جہاں سب ایک دوسرے کو جانتےہوں وہاں یقناً کوئی کسی کو دکھ نہیں دیتا۔ ہمیں ان لوگوں سے سیکھنا چاہیے۔ خاص کر کے ہمارے معاشرتی علوم اور سماجیات کے طلبہ کے لیے ایک بہت اہم مشق ہوسکتی ہے۔ وہ پتا کر سکتے ہیں اور دوسروں کو بتا سکتے ہیں کہ بھائی چارگی کے ساتھ کیوں کر رہا جاسکتاہے۔

سفارش2

Fahim Ahmed
سال پہلے
Nice and amazing report…….. Good job by reporter……

سفارش0

kishore kumar
سال پہلے
i have lived 10 years in hyderabad silawat para things were totally same. There is no change

سفارش0

ahmer fareed
سال پہلے
is abaadi ko 250 se 300 saal ho chuke ha.yaha rehne waloo ke ghar zaroor chote ha lekin dil boht bare ha.Allah ne logoo ke dil boht soft rakhe ha .is qom ne boht sakhtjaan kaam kye hain.tamam purani shaher ki pathar ki immarto me is qom ka khoon paseena shamil ha.guzarte waqt ke saath logoo ne EDUCATION mein deeni and dunyavi boht taraqi ki hai. yaha DOCTORS ,ENGINEERS ,TEACHERS AALIM E DEEN,MUFTIS ki koi kammi nahi hai. apne illaqe and logoo se unsiyat ki waja se aaj bhi log yaha se doosre illaqe me jana nahi chahte .jab poora karachi khaali tha tab bhi in logoo and in ke buzurgoo ne kahi qabza nahi kya.charoo atraaf masajid ke darmyan rehne waali is qom ko samajh and shaur atta kare. AMEEN

سفارش0

M.Awais
سال پہلے
nice City Karachi I Love Karachi……

سفارش0

M.Awais
سال پہلے
ye article padh kar hame bhut achha laga aur hame ye v pata chal gya k aaj v aisa village j jahan pr aurton ki hukmarani h

سفارش0

ejaz ahmed
سال پہلے
marvlous-excelent a pathway 4 all communities it also indicates +results of women empowerment in socity

سفارش0

لالہ خان
سال پہلے
یہی اتحاد اور نظم دین اسلام کی عکاس ہے. کاش امّت مسلمہ اسی اتحاد کی ضامن بن کر انسانیت کی فلاح کے لیے دنیا پر چھا جائے. آمین.

سفارش0

Pak watan
سال پہلے
Every community should be proud of their past. I salute these mothers, sister and brothers who are keeping up the old traditions.

سفارش0

Inder Kishan
سال پہلے
Very Informative.

سفارش0

Nazik Jatoi
سال پہلے
It is an impressive and very fantastic story giving a detailed view of a rich culture

سفارش0

iqbal Burma
سال پہلے
یہ رپورٹ نہ صرف زبان اور بیان کی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ تحریر کی گئ ہے بلکہ اس تحریر میں فیچر کے تمام تکنیکی امور کا بھی کما حقہ خیال رکھا گیا ہے جس میں مطالعے کا زوق بھی نظر آتا ہے اور مشاہدے کی خوبی بھی مزید برآں انٹرویو کے فن سے آگاہ خاتون صحافی اپنے شعبے کا حق ادا کرتی نظر آرہی ہیں۔ ڈان نیوز کا اردو بلاگ زرد صحافت کے عمومی ٹرینڈ کے اس پر آشوب ماحول میں حقیقی مبارکباد کا مستحق ہے

سفارش0

Hum_He_Silawat
سال پہلے
Hum Zinda Quam Hain Tabinda Quam Hain

Likhne Wale Ne Bohat Achi Koshish Ki Hain Or Bohat Hi Khobsorat Andaz Main Likha Hain

Muslim Marwari Silawat Jamat Aik Aisi Jamat Hain Jis K Bare Main Jitna Bhi Likha Jay Kam Hain

Peda Hone Se Mot Tak Is Jamat K Logo Ka Izhar E Yaqjehati Dekh Kar Ap Log Heran Rah Jay Gay

Bachay Ki Pedaish Par Hamara Khoshi Ka Izhar Nirala Hain Ghar Ki Bari Ama Or Choti Bachiya Mill Kar Poray Area Main Thali Peti Hain Apni Khosi Dosro Se Share Karti Hain

Fotgi Par 5 Masjid Main ilaqai Zaban Main Ealan Kya Jata Hain

Shadi Main Bachiya Apni 1000 Se 3000 Friends Ko Makhsos Andaz Main Ghar Ghar Methai Ya Dinner Diliver Karti Hain Dawat Name K Sath

Phir Aik Mazbot Or Paydar Society Charity Platform Jo Pedaish Se Lekar Maut Tak Members Ko Lead Karti Hain

Its Not Enough To Introduce Silawat People In My Own Word Whatever They Are Great People

سفارش0

suleman mandhro
سال پہلے
مارواڑی قوم واقعے حقیقی لوگ ھیں جنھوں نے ملک کی ترقی بل خصوص کراچی کی ترقی یا جہاں پر یہ کمیونٹی رھائش پزیر ھے وھاں کی ترقی کے لئے بھت سے اقدامات اٹھائے اور اپنا حصہ علاقے کی تعمیر وہ ترقی میں ڈالا جب کہ اپنے روایات کو بھی نہیں بھولے سلام ھے ایسی قوم کے بشعور فرد پر جو جدید دور میں بھی پرانے روایات کو نہیں بھولتے۔۔۔ بھترین قسم کا مضمون ھے یمنی صاحب کا

سفارش0

Manzoor Shamsi
سال پہلے
First time I have came to know about this community, nice report.

سفارش0

Amjad
سال پہلے
Its a great locality. May God always bless this community with peace and prosperity.

سفارش0

Khurram Shahzad
سال پہلے
If you cover TAJO (Tea Hotel) and very famous ADHYA (Half Cup of tea) which is also very interesting thing of this part of area…

سفارش0

irfan farid
سال پہلے
I am member of the said community and acted as the General Secretary of of the Silawata Jamaat for a period of 8 years. The our said community is not Marwari. The Historical called the Silawata. Furthermore, our ladies rest their houses at night. The Photo shown by you some retired and unliked ladies.

سفارش0

junaid
سال پہلے
afsos asa bhai chara or itehad is kom se rukhsut hota jara ha , humy apni gumshuda tahzeeb or akhlaq ko phir se khojny ki zarorat ha.

سفارش0

khobaib hayat
سال پہلے
bohot maaloomat afza aor dichasp,hyder abad myn bhi aik slawat para hay lekin wahan ki khawateen tuo din ko bhi bahar hi brajman hoti hyn,jahan muhallah qaim hay wahan hyderabad ke qareebi qasbon se aa ke khareedari kernay walon ka hujoom maqami logon se ziadah hota hay,iss tarz e rehaish se un ko ”doosri ghalat fehmi” hoti hy lehaza oobash log try kernay ki koshish kr tay hyn aor ”sarsari niswani adalat” se juton ki saza patay hyn.

سفارش0

Tasneem Ullah Sheikh
سال پہلے
Allah Ka Shukar ada kerta hoon k nafsa nafsi k is aalam mai meray mulk mai aisi jagah hai jahan insani Iqdaar mojood hain. Logon mai apnaiiat Insaniat ki miraj kehla sakti hai. Allah in Iqdaar kihifazat keray aur pooray mulk mai is tehreer ki jhalak dekhnay ko milay. Shukar Guzar hoon us hasti ka jis nai aisa taaraf kraya.

سفارش0

Muhammad Siddique
سال پہلے
ماشاءا للہ اپنے پاکستان کے شہر کے کراچی کے ایک پر امن گوشے کی دلکش منظر نگاری نے متاثر کیا ہے ۔ اگر پاکستان میں بسنے والی تمام برادریاں ماروڑی برادری کی طرح امن اور تعاون کی بنیاد پر متحدہوجائیں تو پھر سماج دشمن عناصر کو ہماری صفوں میں گھسنے کا موقع کبھی نہ مل سکے ۔ اللہ ان لوگوں کو بالخصوص اور جملہ پاکستانیوں کو بالعموم دونوں جہانوں کی خوشیاں عطا فرمائے ۔ آمین

سفارش0

Tasneem Ullah Sheikh
سال پہلے
Allah ka shukar hai k is Arz e Pak mai koi khitta aisa ha jahan eiman, Ittehad aur nazm o zabt ki emli tasweer mojoood hai. Allah karay ye sab pooray mulk mai dikhai dai. In logon ki Iqdaar mulk mai basnay waloon k liaye sang e meel ki haisiat rakhti hain. Shukar guzar hoon us hasti ka jis nai ye TAARAF de ker mujay Watan e Azeez k aik pur Aman konay sai mutaraf kraya jahan ki babat kaha jata hai k her teraf afra tefri hai. Allah in sab ko Nazer e bad sai bchaye. Aameen.

سفارش0

Ali degarzai
سال پہلے
Your comment…a sun k kafi acha laga k itni izaat auraton ko milti.

سفارش0

Ahmad
سال پہلے
Its so intrusting… I always scard to come to karachi due to voilatinon… But now after read this i really want to visit this area…

سفارش0

ashraf solngi
12 ماہ پہلے
zabrdast saien baloch sb ……………..

سفارش0

Farooq
12 ماہ پہلے
Good Yaar. Kuch der k liye to yaqeen hi nahi a raha tha k aisa bhi koi ilaqa hey pakistan mein. Bohat khusi hue ye jaan k…..

سفارش0

Saleh Sheikh
7 ماہ پہلے
یہ سیدھے لوگ ھیں۔ ان کو زندگی کی رموز سمجھ میں آگئی ھیں کہ چند روزہ زندگی کیسے گزارنی ھے۔ آپس میں مل جھل کے رہنا، اد حد تک کہ ھر شخص ایک دوسرے کوجانتا ھو

سفارش1

muhammad mahmood qadir
7 ماہ پہلے
execellent i want to do it any where any place and every tribe but we are not unite allah will give me power then i will do it

سفارش0

noone
4 ماہ پہلے
WoW, loving it.

سفارش0

نصر ملک ۔ کوپن ہیگن
4 ماہ پہلے
یمنیٰ رفیع جی ۔ واہ کیا خوبصورت الف لیلوی منظر دکھایا ہے آپ نے رنچھوڑ کے ؑعلاقے گزدرآباد کا ۔ کاش سار کراچی گزدرآباد ہو جائے ۔ گلیاں میں ’’ شکر ونڈی‘‘ جائے اور ہر کوئی گزدرآباد کے مکینوں اور خاص طور پر بیبیوں کی طرح دن تو دن رات کو بھی امن سے رہے، خوشیاں بانٹے، اک دوجے کے دکھ درد، خوشی غمی میں شامل ہو ۔ ہر سال کراچی آتا ہوں پندرہ دن ، مہینہ قیام کرتا ہوں، اب کے آیا تو گزدرآباد ضرور جاؤں گا۔ محبت و خلوص اور اپنے بزرگوں کی تہذیب و ثقافت اور اقدار و روایات کے امین لوگوں کو سلام کرنے۔ والسلام نصر ملک ۔ کوپن ہیگن

سفارش0

adnan
4 ماہ پہلے
Last year i read it, today also i found it very interesting and informative.

سفارش0

adnan
4 ماہ پہلے
very gud

سفارش0

adnan
4 ماہ پہلے
nice

سفارش0

Dawn News
کاپی رائٹ © 2016

Tupernic Private Limited. (www.tupernic.com).Designed for Dawn.

رابطہ کریں فیس بک ٹو ئٹر انسٹاگرام استعمال کے شرائط و ضوابط پرائیویسی پالیسی

Advertisements

From → Uncategorized

Leave a Comment

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: